The News Time: آس پاس
Showing posts with label آس پاس. Show all posts
Showing posts with label آس پاس. Show all posts

Sunday, 23 October 2011

Six bodies found in Iranian diving chamber

photo
TEHRAN - Iranian officials found six bodies in a diving chamber recovered after an oil services ship sank in the Gulf, dashing hopes of discovering survivors in the pod, the website of Iran's state broadcaster said Sunday.
Sixty people were rescued from the ship Thursday by Iranian navy and local vessels.
As the diving chamber contained its own limited oxygen supply, Iranian officials had held out hopes that the six inside might have survived.
But a port official, Mohammad Rastad, was quoted as saying Sunday: "The oxygen chamber's door was opened and it was revealed that all six divers have lost their lives."
The crew of oil services ship included workers of Iranian, Indian and Ukrainian nationalities. Seven of the workers are still listed as missing, presumed drowned.

Saturday, 22 October 2011

U.S. must put an end to Middle East colonialism: Ahmadinejad

Iranian President Mahmoud Ahmadinejad slammed the United States’ involvement in the Middle East in an interview with CNN on Saturday, saying that the U.S. must realize that the "era of colonialism is over", adding that it is weakening and “hated” in the region and should keep out of its affairs. The Iranian president said that although killing cannot be justified under any circumstances, this does not mandate outside intervention in internal affairs

Turkey: 49 Kurdish rebels killed in fighting

Turkey's military says 49 Kurdish rebels have been killed in offensives in southeast Turkey. The military said in a statement posted on its website Saturday that the rebels were killed in fighting in Hakkari province over the past two days. Turkey launched anti-rebel offensives — involving around 10,000 troops — both in southeastern Turkey and across the border in Iraq on Wednesday, after 24 soldiers were killed by the rebels in the deadliest one-day toll against the military since the 1990s. Earlier, the state-run television TRT television reported 32 rebels killed in clashes in a valley in Hakkari province

متبادل سپلائی لائن کیلئےوسطی ایشیاکادورہ ہیلری


دوشنبے:  امریکا کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن  افغانستان اور پاکستان کے دورے کے بعد تاجکستان پہنچ  گئیں ہیں جہاں وہ افغانستان میں تعینات امریکی و اتحادی افواج کےلیے  رسد  کے متباد ل راستوں پر بات چیت کریں گی۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں جمعے کی رات کو  اہم ملاقاتوں کے بعد امریکی وزیر خارجہ دوشنبے کےلیے روانہ ہوں گئی جس کے بعد وہ ازبکستان بھی جائیں گی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارےکے مطابق ہیلری  دونوں سابق سوویت ریاستوں سے اسلامی انتہاپسندی کے پھیلاؤ ان کے اثرات اور سدباب کےحوالے سے بات چیت کریں گی جب کہ اس دورے کا مقصد اتحادی افواج کے لیے متبادل سپلائی لائن کی تلاش بھی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ  ازبکستان اور تاجکستان پہلے ہی  رسد کی سہولیات افغانستان میں موجود افواج کو دے رہا مگر وہ کل سپلائی کا صرف10 فیصد  تک ہے جب کہ پاکستان کے راستے ہونے والی  رسد 80 فی صد ہے۔
موجودہ حالات میں جب خطے ایک بڑی کروٹ لے رہا ہےواشنگٹن انتظامیہ جنگی ہتھیاروں کو وسطی ایشیا کے راستے افغانستان لے جانے کے راستے تلاش کررہا ہے۔
یاد رہےکہ پاکستان کے ساتھ امریکی معاملات اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں جب کہ ایران کے ساتھ اس کی چپقلش پرانی ہوگئی ہے۔

قذافی اورعراق نےامریکی طاقت ثابت کردی‘ اوبامہ

:واشنگٹن : امریکی صدر باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ لیبیا کے کرنل معمر قذافی کی ہلاکت اور عراق سے امریکی جنگ کا خاتمہ دنیا پر امریکہ کی نئی قیادت کی طاقت کو ثابت کردیا ہے۔

اپنے ہفتہ وار ریڈیو و انٹرنیٹ خطاب میں باراک اوبامہ نے کہا کہ عراق جنگ کے بعد اب ان کی ساری توجہ افغانستان میں القاعدہ کے خلاف اہم پیش قدمی سمیت ملک کو درپیش سب سے بڑے چیلنج یعنی کمزور معیشت کی بحالی اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے پر ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ لیبیا اور عراق میں حاصل ہونے والی خارجہ پالیسی کی فتوحات امریکہ کی بالادستی کا حصہ ہے۔ اس ہفتے دنیا پر ثابت کردیا گیا ہے کہ امریکہ کی نئی قیادت کتنی موثر اور طاقت ور ہے۔
ان کاکہناتھاکہ افغانستان سے بھی جلد فوجی واپس وطن لوٹے گئے۔

پاک افغان سرحد پر ناٹو کا آپریشن مکمل


کابل: مشرقی افغانستان میں ناٹو کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف شروع  کئے جانےوالا آپریشن مکمل کرلیاگیاہے۔
ذرائع کے مطابق کے ناٹو فورسز نے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں جمعہ کے روز آپرشن شروع کیاتھا اور آج صبع آپریشن مکمل کرکے علاقے کلیئر قرار دے دیا ہے۔
پاک افغان سرحدی علاقوں میں ناٹو اور افغانستان کی فوج نے مشترکہ آپریشن ہیلی کاپٹرز کی مدد سے مکمل کیا جس میں متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیاگیاہے۔
ذرائع کا کہنا ہے آپریشن کے دوران پاکستان کو افغانستان سے ملانےوالی شاہرہ کو ٹریفک کے لئے بند کردیاگیا تھا تاہم آپریشن کے بعد شاہراہ کو کھول دیاگیاہے۔

قذافی خاندان نےلاش کی حوالگی کامطالبہ کردیا

طرابلس : لیبیا کےسابق صدر کرنل معمر قذافی کے خاندان نے ان کی لاش کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مطالبہ معمر قذافی کی حمایت کرنے والے شامہ ٹیلی ویژن پر قذافی خاندان کے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اقوام متحدہ، اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ لیبیا کی عبوری کونسل پر مرحوم صدر کی لاش سرت میں ان کے قبیلے کے سپرد کرنے کے لئے زور ڈالے اور ان کی تدفین اسلامی رسومات کے مطابق کرنے کی اجازت دی جائے۔
معمر قذافی اور ان کے بیٹے معتصم کی لاشیں مصراتہ کے سرد خانے میں ہیں جہاں جمعہ کو لوگ انہیں دیکھنے کے لیے قطاروں میں آ رہے ہیں۔
عبوری کونسل کا کہنا ہے کہ سابق حکمران کی لاش کو چند روز تک سرد خانے میں رکھا جائے گا تاکہ ان کی موت کا سب کو یقین ہو جائے۔

امریکہ یا بھارت سے جنگ ہوئی تو پاکستان کاساتھ دیں گے :حامد کرزئی

کابل: افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہاہےکہ اگر پاکستان کی امریکہ یا بھارت سے جنگ ہوئی تو ہم پاکستان کا ساتھ دیں گے۔
پاکستان کے نجی ٹیلی وژن جیو کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے افغان صدر نے کہاکہ اگر پاکستان پر کوئی حملہ کرے اور پاکستان کو افغانستان کی مدد کی ضرورت پڑی تو ہم ہر مدد کو تیار رہیں گے۔
انہوں نے کہاکہ امریکہ ہو یا بھارت پاکستان کے خلاف افغانستان کسی کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا۔ پاکستان افغانستان کا بھائی ہےاور ہم اپنے بھائی کو کبھی دھوکہ نہیں دے سکتے۔
افغانستان کے سابق صدر پروفیسر برہان الدین ربانی کے قتل سے حوالے متعلق بات کرے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں نے پاکستان پر الزام نہیں لگایا تھا صرف یہ کہاتھاکہ قاتل پاکستان سے آئے تھے۔ سابق صدر کی ہلاکت کی وجہ سے نقصان پاکستان کو بھی ہوا ہے۔

Friday, 21 October 2011

Turkey and Iran to co-operate against PKK



Turkey and Iran have vowed to collaborate in their fight against Kurdish fighters, as thousands of Turkish troops resumed their air and ground offensive against the armed groups in northern Iraq for a second day.

The foreign ministers of the two countries announced plans to co-operate against the Kurdistan Workers' Party (PKK) and its Iranian wing, the Party of Free Life of Kurdistan (PJAK) during a joint news conference held in Ankara on Friday.
"From now on, we will work together in a joint action plan until this terrorist threat is totally eliminated," Ahmet Davutoglu, the Turkish foreign minister, said.
Ali Akbar Salehi, the Iranian foreign minister, said he will seek more co-operation with Turkey against the fighters near their shared border. He said the PKK and PJAK were "common problems" for both countries.
Davutoglu’s statement came as Turkish jets kept up bombing raids on Kurdish fighter bases, taking off from Diyarbakir, the regional capital of the mainly Kurdish southeast.
The Turkish army has said that "while the majority of the land and air operations are in the Cukurca region [in Turkey], ground and air strikes are ongoing in a few points in northern Iraq across the border".
A small group of specially trained Turkish troops crossed into Iraq from the villages of Yekmal and Bilecan on the Turkish side of the border and entered the Dola Sulo region in Haftanin, the Kurdish news agency Firatnews quoted sources from the PKK as saying.

Al-Shabab claims peacekeepers' killings


Somalia's al-Shabab fighters have put on display the dead bodies of more than 70 African Union peacekeepers they say they killed in the country's capital, Mogadishu.
The troops, reportedly Burundian soldiers, were killed on Thursday following a battle with al-Shabab, according to Abu Omar, a commander of the anti-government Islamist group.
"We can confirm that more than 150 Burundian soldiers were killed in the battle. We can confirm to you that 76 of the bodies are currently in our custody and the battle lasted for about six hours," he told Al Jazeera.
Displaying the bodies in the dust to reporters, Sheikh Ali Mohamud Rage, an al-Shabab spokesman, said: "We have killed more than 70 of the enemy soldiers today ... We have inflicted heavy losses on them and you can see their dead bodies."
The bodies were put on display in the al-Shabab-controlled El-Maan area, 18km from Mogadishu.
Witnesses say the bodies were not Somalis and most were dressed in military uniforms.
"I have seen the largest number of soldiers killed in a battle, I have counted 63 Burundian soldiers, all of them dead, the Shabab brought them on trucks to Alamada," Hasan Yunus, a witness, said.
"Some of the dead bodies were dragged along by angry residents."
Photographs showed long lines of at least 20 bodies dressed in military uniform laid out in the sand, surrounded by a large crowd with their faces covered.

’ہیلری کلنٹن:'امریکہ جنرل کیانی کے بیان سے متفق ہے کہ پاکستان افغانستان یا عراق نہیں


اسلام آباد : پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات قومی مفادات پر مشتمل ہیں اور مضبوط افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے جب کہ امریکہ سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ امریکہ جنرل کیانی کے بیان سے متفق ہے کہ پاکستان  افغانستان یا عراق نہیں ہے۔

وفاقی دارلحکومت میں امریکی ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو گزشتہ چند ماہ سے چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی ایسا ملک نہیں ہے جو کہ افغانستان میں امن نہ چاہتا ہے اور پاکستان مضبوط اور مستحکم افغانستان دیکھنا چاہتا ہے اور پاکستان کے علاوہ کوئی ایسا ملک نہیں ہے جو کہ افغانستان کے عدم استحکام سے متاثر ہو۔
انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے قومی اسمبلی اور اے پی سی کی قراردادوں پر عمل کریں گے۔
حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

ہیلری کلنٹن 

اس موقع پر ہیلری کلنٹن نے  پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر بات کرنے سے قبل کرنل قذافی کی ہلاکت کے حوالے سے بات چیت کا آغاز کیا۔ ہیلری نے کہا کہ  قذافی کی ہلاکت سے لیبیا کے عوام کاایک تلخ باب ختم ہو گیا ہے۔ امریکہ لیبیاکے عوام کی مدد جاری رکھے گا.
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تنازعات ایک دورہ میں طے نہیں کیے جا سکتے۔ پاکستان اور امریکہ دونوں کے مفادات میں ہے کہ وہ افغان عوام کی مدد کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایک مستحکم، خودمختار اور خوشحال پاکستان دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ پاکستان کا استحکام خطے کے استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ہیلری کلنٹن نے کہا کہ انتہاپسندی نے پاکستان ،امریکہ اور افغانستان کے ہزاروں عوام کی جان لی ہے اور پاکستانی حدود سے گزشتہ کافی عرصے سے افغانستان میں امریکی فوج کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرتی عمل کی حمایت کرتا ہے اور خوش آئند قرار دیتا ہے۔
 ایک سوال کے جواب میں ہیلری کلنٹن نے کہا کہ وہ جنرل کیانی نے اس بیان  سے متفق ہوں کہ پاکستان نہ تو افغانستان ہے اور نہ ہی عراق ہے۔
ہیلری کلنٹن نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اے پی سی کا انعقاد خوش آئند ہے اور امریکہ اے پی سی کی قرار داد کا احترام کرتا ہے۔
حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر امریکی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ امریکہ بارڈر کے دونوں جانب موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر یقین رکھتا ہے۔ امریکہ افغانستان سے پاکستانی حدود میں حملے روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے کیونکہ طالبان پاکستانیوں، امریکیوں اور افغان شہریوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

چین سےمعاہدہ کیلئےریفرنڈم لازمی


تائپے: تائیوان کے صدر مابنگ جیو نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ معاہدے کے لئے ریفرنڈم کو لازمی قرار دے دیا ہے۔
میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ امن معاہدے سے قبل اس ایشو پر ہم پہلے ریفرنڈم کرائیں گے اور اگر ریفرنڈم کے ذریعے اس معاہدے کے لیے منظوری دی گئی تو ہم مستقبل میں چین کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کر یں گے۔
واضح رہے تائیوان کے صدر کی جانب سے یہ بیان چین کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے لیے گزشتہ ہفتے ایک جانب سے امن معاہدے کی تجویز پر غور کرنے کے مؤقف کے بعد سامنے آیا ہے۔
دریں اثنا تائیوان کی اپوزیشن جماعت نے صدر کی امن معاہدے کی تجویز کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

چین کشمیرپالیسی تبدیل کرے،بھارت


نئی دہلی : بھارت نے چین کی طرف سے جموں وکشمیر کے شہریوں کو علیحدہ کاغذ پر ویزا فراہم کرنے کےمعاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بیجنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اقدام کو ترک کریں اور ایک دوسرے کے تعلقات کی احساسیت کو مدنظر رکھا جائے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان نے چین کی طرف سے جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو الگ کاغذ پر ویزہ فراہم کرنے کے معاملے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ کو کشمیر کے معاملے پر اس طرح بھارتی خدشات کا احترام کرنا چاہیے جس طرح بھارت تائیوان اور تبت کے حوالے سے چین کے خدشات کا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت چین تعلقات کو ایک دوسرے کی احساسیت کا خیال رکھتے ہوئے مزید مضبوط بنایا جاسکتا ہے اور ہمارا اس حوالے سے مؤقف واضح ہے جب کہ چین کو بھی یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ویزہ کے معاملے پر بھارت کی کیا پوزیشن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کچھ کشمیری شہریوں کو علیحدہ کاغذ پر ویزہ دینے کی اس پالیسی کو تسلیم نہیں کرتے جموں وکشمیر کے شہری بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر کے باشندے ہیں اور چین کی ویزا پالیسی تمام شہریوں کے لیے ایک جیسی ہونی چاہیے، اس دوران چین نے بھارت سے کشمیر کے حوالے سے اپنے کا مؤقف کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کا یہ مؤقف برقرار ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے بھارت اور پاکستان اس مسئلے کو بات چیت اور افہام وتفہیم سے حل کریں اس مسئلے پر بیجنگ کے نقطہ نظر میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

Thursday, 20 October 2011

پاک امریکہ کشیدگی سے بھارت کو خطرہ،کرشنا

نیو دہلی : بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کو مل بیٹھ کر تمام مسائل کے حل کے لیے کوششیں کرنی چاہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی سے دیگر ممالک بالخصوص بھارت کو بھی خطرہ ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس ایم کرشنا نے کہا کہ بھارت کی خواہش ہے کہ پاکستان اور امریکہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں کیونکہ خطے کی خراب صورتحال کا اثر دیگر ممالک  کی ترقی پر پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو پاکستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش ہے اور بھارت جانتا ہے کہ پاکستان اس وقت سیاسی ،معاشی  اور سیکورٹی کے مسائل کا شکار ہے، لیکن بھارت بھی سمجھتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تمام مسائل مذاکرت کے ذریعے حل کیے جائیں کیونکہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کا مثبت کردار ہے۔

قذاقی ہلاکت سے تاریک باب کا خاتمہ، عالمی رد عم

لیبیا کے معذول رہنما کرنل قذافی کی ہلاکت کو عالمی رہنما اس ملک کے ایک جابرانہ اور تاریک باب کا خاتمہ قرار دے رہے ہیں۔
کرنل معمر قذافی کو جمعرات 20 اکتوبر کو ان کے آبائی شہر سرت میں عبوری قومی کونسل (این ٹی سی) کے جنگجوؤں نے پکڑ لیا تھا۔ کئی گھنٹے بعد بعد این ٹی سی کے اعلی اہلکاروں ے ان کیہلاکت کی تصدیق کی
کلِک


امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ کرنل قدافی کی ہلاکت سے لیبیا کے لوگوں کے لیے ایک دردناک دور کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
صدر اوباما نے کہا کہ چار عشروں پر محیط کرنل قذافی کا دور ختم ہوگیا ہے اور اب لیبیا کے عوام کی ذمہ داری ہے کہ ملک کو جمہوری بنیادوں پر استوار کریں۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو نے لیبیا میں جو کچھ کیا ہے اس پر انہیں فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو نے لیبیا کے لوگوں کو موقع مہیا کر دیا کہ وہ اپنے ملک میں جمہوری قدروں کو پروان چڑھائیں
David Cameron David Cameron leader of the Conservative Party delivers his keynote speech to delegates on the last day of the 2008 Conservative Conference at The International Conference Centre on October 1, 2008 in Birmingham, England.  Cameron hit back over Labour Claims that he lacks experience to guide Britain through a financial crisis.
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کرنل قدافی کی ہلاکت پر کہا کہ اب وقت ہے ان افراد کو یاد کرنے کا جو معمر قذافی کی جابرانہ حکومت کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ برطانیہ نے لیبیا کی جمہوریت کی جانب سفر میں اس کی مدد کی اور انہوں نے اس جدوجہد میں شریک لیبیا کے لوگوں کو خراج تحسین پیش کی۔ برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ لیبیا کی مدد جاری رکھے گا۔

فرانس کے وزیر خارجہ ایلین ژوپ نے کرنل قذافی کی
 ہلاکت کو ’لیبیا میں بیالیس سال کی آمریت کا خاتمہ‘ قرار دیا۔

یورپی یونین کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ یہ ہلاکت لیبیا کے عوام کے لیے ایک آمرانہ اور جابرانہ دور کا خاتمہ ہے۔
یورپی یونین کے صدر ہیرمان وان رومپوئی اور یورپی کمیشن کے صدر ژوسے مانیویل باروسو نے لیبیا کی عبوری قومی کونسل سے کہا ہے کہ اب یہ وقت مفاہمت اور ایک جمہوری اور پُر امن عبوری دور کا ہے۔
یورپی پارلیمان کے صدر جیری بوزیک سنیچر کو لیبیا پہنچ رہے ہیں۔
امریکہ میں ریپبلکن جماعت کے سینیٹر جان مکین نے کرنل قذافی کی ہلاکت کی خبروں کے بارے میں کہا کہ ’یہ لیبیا کے انقلاب کا پہلا مرحلہ ہے۔‘


گیلانی سےہیلری کی ملاقات شروع


اسلام آباد: امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات شروع ہوگئی ہے جس میں پاک امریکہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
سید یوسف گیلانی نے ہیلری کلنٹن سے ملاقات سے قبل اپنے رفقاء سے وزیراعظم ہاؤس میں مشاورت بھی کی۔
ملاقات میں وزیراعظم کے ساتھ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی ، وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ شامل ہیں جب کہ امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس ، امریکی افواج کے سربراہ مارٹن ڈیمپسی ، پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر ، نمائندہ خصوصی برائے پاکستان اور افغانستان مارک گراس مین بھی موجود ہیں۔

قذافی کی موت کی تصدیق لیبیا میں جشن کا منظر


وانا: صحافی کے گھر کے باہر دھماکہ


پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں صحافی جاوید نور وزیر کے گھر کے مین گیٹ میں نصب بم پھٹنے سے گھر کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ جاوید مروت نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ یہ واقہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات وانا سے کوئی چار کلومیٹر دور جنوب مغرب کی جانب گاؤں ڈبکوٹ میں پیش آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مقام وانا میں گزشتہ ایک عرصے سے آمن آمان قائم تھا لیکن اب ایک دو ہفتوں سے بم دھماکے اور سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے واقعات پیش آئیں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں پولیٹکل انتظامیہ کی عملداری بحال ہوگئی ہے اور حال ہی میں جو واقعات پیش آئیں ہیں اس کے خلاف ایف سی آر کے تحت کارروائی کی ہے۔اہلکار کے مطابق صحافی جاوید نور کے گھر میں دھماکہ علاقے میں جاری شدت پسندی کا ایک حصہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیٹکل انتظامیہ نے تحقیقات شروع کی ہے اور جلد ہی اس میں ملوث لوگوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔
صحافی جاوید نور نے بتایا کہ دھماکے گھر کی دیوار کے ساتھ نصب ایک بم سے کیا گیا۔دھماکے سےگھر کا دروازہ اور چاردیواری مکمل طور پر منہدم ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کے گھر کے اندر تین کمروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اس واقعہ کی ابھی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے نہ ہی انہوں نے کسی پر الزام لگایا ہے۔ جاوید نور کے مطابق ان کی کسی سے کوئی دُشمنی نہیں ہے۔
جاوید نور کا شمار جنوبی وزیرستان کے سینیئر صحافیوں میں ہے۔ انہوں نے اُنیس سو بیانوے میں گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان سے جرنلزم کی ڈگری حاصل کی تھی اور اُس وقت سے اب تک روزانہ ’مشرق‘ سے وابستہ ہے۔


لیبیا کے رہنما کرنل قذافی ’ہلاک‘

لیبیا میں قومی عبوری کونسل نے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کو سرت شہر پر قبضے کے بعد گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔
قومی کونسل کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
قومی عبوری کونسل کے حامی ایک جنگجو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے قذافی کو ایک گڑھے میں چھپے ہوئے پکڑا۔ اس نے ایک طلائی پستول بھی دکھایا جو اس کے بقوں اس نے کرنل قذافی سے چھینا تھا۔ اس نے دعوی کیا کہ قذافی گولی نہ مارنے کی التجا کر رہے تھے۔
لیبیا کے ٹی وی پر نشر ہونی والی خبروں کے مطابق قذافی شدید زخمی تھے اور ان کو پیروں پر زخم تھے۔ سرکاری ٹی وی نے مزید کہا کہ قذافی کو ایک ایمبولینس میں ڈال کر لے جایا گیا۔
لیبیا میں قومی عبوری کونسل کے جنگجوؤں نے سرت شہر کے مرکزی علاقے پر قبضہ کر نے کے بعد وہاں پر اپنا جھنڈا گاڑ دیا ہے۔
عبوری کونسل کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ سرت شہر پر قبضہ دو ماہ کے محاصرے اور قذافی کے حامیوں کی طرف سے شدید مزاحمت کے خلاف جنگ کے بعد ممکن ہوا ہے۔
سرت شہر کو جانے والے راستوں پر تعینات جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ قذافی کے حامیوں نے کئی جگہوں سے نکلنے کی کوشش کی۔
بی بی سی کے نامہ نگار نے سرت شہر کے مضافات سے اطلاع دی ہے کہ وہ ابھی شہر پر باغیوں کے قبضے کی خبر کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

کشمیر: ’گیلانی مذاکرات پر غور کریں گے‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حریت کانفرنس (گ) کے سربراہ سید علی گیلانی نےاعلان کیا ہے کہ حکومت ہند کی طرف سے انہیں مذاکرات کی رسمی طور پیشکش کی گئی تو اس پر وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مشاورت کریں گے۔
مسٹر گیلانی واحد علیحدگی پسند رہنما ہیں جو پچھلے کئی برسوں سے اس بات پر مُصر ہیں کہ بات چیت کا عمل تب تک شروع نہیں ہوسکتا جب تک حکومت ہند جموں کشمیر کو ایک متنازعہ خطہ قرار نہیں دیتی۔
سید گیلانی نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران کہا: ’ہمارا ایک سسٹم ہے۔ ہماری مجلس شوریٰ ہے، جب ایسی کوئی تجویز سامنے آئے گی، ہم اس پر باہم مشاورت کرینگے۔‘
انہوں مزید بتایا کہ وہ اس بارے میں سماج کے ہم خیال حلقوں کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
سخت گیر مؤقف رکھنے والے علیحدگی پسند رہنما کا یہ ردعمل ان اخباری اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں یہ اشارہ کیا گیا تھا کہ حکومت ہند مسٹر گیلانی کو بات چیت کے لیے مدعو کرے گی۔
قابل ذکر ہے کہ ایک سال تک جموں، کشمیر اور لداخ میں مختلف عوامی حلقوں سے ملاقاتوں کے بعد تین سرکاری رابطہ کاروں نے بھارتی وزیرداخلہ پالانیاپن چدامبرم کو ایک رپورٹ پیش کی ہے، جس میں سخت قوانین میں نرمی، کنٹرول لائن کے ذریعہ پاکستانی کشمیر کے ساتھ تجارت میں وسعت اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع جیسی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
صحافی دلیپ پڈگاؤنکر کی سربراہی میں اس تین رکنی ثالثی گروپ کو علیٰحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں کامیابی نہیں ملی، کیونکہ علیٰحدگی پسند گروپوں نے ان کے ساتھ بات کرنے کو ’وقار کے خلاف‘ قرار دیا تھا اور بعض نے اشارہ کیا تھا کہ وزیراعظم کی سطح پر ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔
انہوں نے مقامی حکومت پر الزام عائد کیا کہ کشمیر میں ہندوآبادیوں کو مستقل رہائش فراہم کرکے کشمیر میں مسلم آبادی کے تناسب کو بگاڑ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قریب پانچ لاکھ غیرکشمیری لوگوں کو کشمیر کی مختلف جھگی جھونپڑیوں میں بسایا گیا ہے اور ان کی حفاظت پر پولیس کو مامور کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سنہ دو ہزار پانچ میں دوطرفہ بات چیت سے ہی سید علی گیلانی اور ان کے ساتھیوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے۔ یہاں تک کہ ستمبر دو ہزار تین میں مختلف علیٰحدگی پسند گروپوں پر مبنی حریت کانفرنس دو خیموں میں بٹ گئی تھی۔
بعد میں میرواعظ عمرفاروق کی سربراہی والے حریت دھڑے نے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اور ان کے نائب لال کرشن ایڈوانی کے ساتھ مذاکرات کے دو ادوار کئے۔
کانگریس کے دور اقتدار میں بھی میرواعظ عمرفاروق، محمد یٰسین ملک سجاد غنی لون نے وزیراعظم منموہن سنگھ کے ساتھ نئی دلّی میں مذاکرات کئے۔
غورطلب ہے کہ اس بار سید علی گیلانی نے کشمیر میں فوجی جماؤ اور اس سے پیدا شدہ انسانی المیوں کی صورتحال کا حوالہ بھی دیا اور بات چیت کو یسکر مسترد بھی نہیں کیا۔
سیاسیات کے پروفیسر گُل محمد وانی کہتے ہیں:’ گیلانی نے تو گیند نئی دلّی کے پالے میں ڈال دی ہے۔ یہ تو نئی دلّی کی نیّت کا امتحان ہوگا۔‘