The News Time: Inventions
Showing posts with label Inventions. Show all posts
Showing posts with label Inventions. Show all posts

Saturday, 19 November 2011

’دنیا کا سب سے بڑا قرآن پیش‘


ماسکو: روس میں دنیا کے سب سے بڑے قرآن پاک کے نسخے کو عوام کے سامنے پیش کر دیا گیا، جواہرات اور سونے سے مزین اس نسخے کا وزن 800 کلوگرام ہے۔
قرآن پاک کی جلد پر قیمتی جواہرات جڑے ہوئے ہیں،ڈیڑھ میٹر کے 632 اوراق پر انتہائی خوبصورت خطاطی کی گئی ہے۔
روسی ریاست تاتارستان (Tatarstan) نے اسے خصوصی طور پر اٹلی سے تیار کرایا ہے، قرآن پاک کے اس عظیم نسخہ کی تیاری میں ایک سال کا عرصہ لگا۔
دنیا کے سب سے بڑے اس قرآن پاک کو قازن (Kazan) کی ایک مسجد میں رکھا جائے گا۔

Sunday, 30 October 2011

The end of remote controls?

LONDON - It might spell the end of fiddling around for remote controls in between the sofa cushions. The upcoming big Apple TV will use iPhone's Siri 'personal assistant' as its main control method - and will use touch control as a back up. Leaks from Apple's manufacturing chain say that Apple has been working on prototype sets since September - according to a design blueprint laid down by late CEO Steve Jobs. 
His 'eureka' moment was realising that Siri's voice control could be used to 'talk' to the set. The quote 'I finally cracked it,' in the recent biography by Walter Isaacson was misquoted in recent reports, reports the New York Times. Jobs was referring to the realisation that the television should be voice-controlled - using the natural-language algorithms of Siri so that people talk to the set as they would to someone sitting next to them on the sofa. Mr Jobs, who died earlier this month, told author Walter Isaacson: “It will have the simplest user interface you could imagine.” A third party analysis suggests the device will hit shelves by late next year or 2013.

Sunday, 23 October 2011

سویڈن509 فٹ زیرزمین ہوٹل مہم جوؤں کے لئے کھل گی


اسٹاک ہوم : ہوسکتا ہے کہ آئندہ چند برسوں بعد مہم جوئی کے شائق خلاءمیں تیرتے ہوئے ہوٹلوں میں رات گزارنا شروع کر دیں مگر فی الحال اگر آپ اس طرح کا ایڈونچر چاہتے ہیں تو زیرزمین یہ تجربہ کر سکتے ہیں۔
اس مقصد کے لئے آپ کو سویڈن جانا ہوگا جہاں زمین کے اندر 509 فٹ گہرائی میں موجود چاندی کی کان کو رہائشی ہوٹل کی شکل دے دی گئی ہے۔
اس کان میں ایک عجائب گھر، سینما، 2 کھانے کے کمرے اور ایک رہائشی کمرا ہے جہاں 2 افراد شب بسری کر سکتے ہیں۔
یہاں آپ کو پہنچائے گے تو انتظامیہ کے افراد ہی مگر رات تنہا گزارنا پڑے گی، کیونکہ وہ لوگ آپ کو چھوڑ کر واپس اوپر چلے جائیں گے۔
یہاں رات کو قیام کے دوران ایک دشواری یہ ہے کہ اگر بیت الخلاءجانے کی خواہش ہو تو آپ کو 509 فٹ گہرائی سے اوپر 165 فٹ کی سطح پر آنا پڑے گا۔
اور فون یا انٹرنیٹ کا تو اتنی گہرائی میں تصور بھی ممکن نہیں۔
ان تمام مشکلات کے باوجود اگر کوئی شخص اس ایڈونچر کو پورا کرنا چاہے تو بس 580 ڈالرز دے کر وہ ایک شب کے لئے کمرا اپنے نام کراسکتا ہے

Saturday, 22 October 2011

نظام شمسی سے دور آبی بخارات کا وسیع ذخیرہ دریافت


برسلز : یورپی سائنسدانوں نے ہمارے نظام شمسی کے پار آبی بخارات کا وسیع ذخیرہ دریافت کیا ہے۔
یورپی اسپیس ایجنسی کے ماہرین کے مطابق 175 نوری سال کے فاصلے پر واقع سیارہ اور اس کے ارگرد کا ماحول آبی بخارات سے ڈھکا ہوا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق ان بخارات کا ذخیرہ اتنا ہے کہ اس سے زمین کے ہزاروں سمندروں کو بھرا جا سکتا ہے۔
انھوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں یہ بخارات بارش کے ذریعے اس سیارے میں برس کر سمندروں کی تشکیل کرے گا، جیسا ساڑھے 4 ارب سال پہلے زمین پر ہوا تھا۔
اس دریافت سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر سمندر کہاں سے آئے بلکہ یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس کائنات میں سمندروں پر مشتمل متعدد دنیائیں ہوسکتی ہیں۔

Thursday, 20 October 2011

چاند پر بستی بسانے کا خواب

روس کے خلائی سائنسدانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ چاند پرگھر بسانے کا خواب جلد ہی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔
ان سائنسدانوں کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر میں چاند پر دکھائی دینے والے غاروں سے یہ امکان بڑھ گیا ہے کہ اگلے بیس سال میں وہاں ایک نئی بستی بسائي جا سکتی ہے۔
روس کے ’ كوسوموناٹ ٹریننگ سینٹر‘ کے سربراہ سرگئي كركاليوو کے مطابق یہ غار تابکاری اور شہابیوں کی برسات سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم كركاليوو یہ نہیں بتا پائے کہ اتنی بڑی سکیم کے لیے پیسے کہاں سے آئے گا۔
محققین نے پہلے ہی یہ امکانات ظاہر کیے تھے کہ چاند پر آتش فشانی کی تاریخ کی وجہ سے وہاں اس سے نکلا لاوا کسی نہ کسی شکل میں جمع ہوں گا جو اب ان غاروں کے طور پر سامنے آیا ہے۔
سرگئي كركاليوو کے مطابق اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ چاند پر پائے جانے والے ان غاروں کی تعداد کافی زیادہ ہے تو یقینی طور پر چاند پر بستی بسانے کا عمل کافی دلچسپ ہوگا۔
ان کے مطابق چاند پر بنے ان غاروں کی وجہ سے نہ تو وہاں کی کھدائی کرنی ہوگی اور نہ ہی دیواریں اور چھتیں تعمیر کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’وہاں صرف ایک ہلکی پرت تعمیر کرنا ہوگی جس کا بیرونی حصہ سخت ہو ، جو ان غاروں کو ڈھكنے کے کام آ سکے‘۔
روسی خلاباز ٹریننگ سینٹر کے نائب صدر بورس كرشكوو کا اندازہ ہے کہ سنہ 2030 تک چاند پر بستی بسائي جا سکے گی۔
مریخ اور دیگر سیاروں پر جانے کی منصوبہ بندی طویل عرصے سے کی جا رہی ہے اور ایسے میں چاند کے بارے میں ملنے والی یہ معلومات کہیں نہ کہیں اسے اور زیادہ دلچسپ بناتی ہیں۔.
یورپی خلائی ایجنسی کے حکام کا بھی کہنا ہے کہ ان کے لیے چاند ایک اہم چیز ہے اور اگر ان کے انسانی خلائی پرواز کے پروگرام کا دوسرا مرحلہ چاند ہوتا ہے تو اس پر کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔


دیوارکے پاردیکھنےوالی ٹیکنالوجی تیار

نیویارک : دیواروں کے پار دیکھنا ہمیشہ سے انسان کا خواب رہا ہے اور اب امریکی سائنسدانوں نے اسے حقیقی شکل دے دی ہے۔
میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے ریڈار ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسی ڈیوائس تیار کر لی ہے جس کے ذریعے دیواروں کے پار دیکھا جا سکے گا۔
اگرچہ اسے عام انسان بھی استعمال کر سکتے ہیں مگر اس کا زیادہ استعمال شہری علاقوں میں جنگی صورتحال کے دوران ہونے کا امکان ہے۔
اس ڈیوائس میں ان بینڈ ویوز کو استعمال کیا گیا ہے جنھیں وائرلیس انٹرنیٹ کنکشن کے لئے استعما کیا جاتا ہے، یہ لہریں دیواروں کے اندر سے گزر کر مطلوبہ چیز کو آنکھوں کے سامنے مجسم کر دیتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا سب سے خطرناک مرحلہ دیوار کے پار دیکھنے کی رفتار، تصاویر اور رئیل ٹائم وڈیو فیڈ تھا۔