The News Time

Tuesday, 1 November 2011

Pakistan to forfeit final IMF loan tranche


WASHINGTON - Pakistan will not take up the final $3.7 billion tranche of an International Monetary Fund loan package after rejecting strict reform demands, a daily newspaper reported on Tuesday.
Finance Minister Abdul Hafeez Shaikh told the daily that the IMF conditions were too tough and the government would instead pursue a homegrown reform program, adding that the "resilient" economy did not need IMF help.
The Washington-based fund bailed out Pakistan with an $11.3 billion loan package launched in November 2008 as the country faced 30-year-high inflation rates and fast-depleting reserves, as well as a deadly insurgency.
But the IMF earlier this year indicated it was unsatisfied with Islamabad's progress in dealing with its chronic fiscal problems and introducing promised structural reforms.
"Inflation remains persistently high, and budgetary problems are undermining macroeconomic stability," it said in May.
An IMF spokesman declined to comment on the Financial Times report, but said that the standby facility had expired on schedule on September 30.
The fund has paid out two-thirds of the loan package, with the latest installment disbursed in May 2010.
Three months later the country was hit by the worst floods in its history, which led to a separate emergency aid payment of 450 million dollars. Since then however, the IMF and Pakistan have been at odds over fiscal management.
The IMF forecasts Pakistan to post growth of just 2.6 percent in 2011, among the lowest in Asia, while inflation is tipped to stand at around 14 percent this year and next -- among the highest in the world.

دوردیس کی پاکستانی لڑکی

وہ پاکستان سے اپنا سب کچھ چھوڑچھاڑاچھے دنوں کی امیدلئے برطانیہ گئی تھی۔یہ اچھے دن اگرچہ معاشی طورپرمطلوب نہیں تھے لیکن پرسکون گھر،خوشیوں بھرے لمحات اورزندگی کامشن پوراکرنے کودستیاب گھڑیاں مل جانا بھی تو خوشی ہی کہلاتاہے۔
کہنے کوتووہ برسوں پہلے دوردیس چلی گئی لیکن ناجانے کیوں اس کادل اب بھی انہی گردآلودسڑکوں،موت کا رقص دیکھتی گلیوں،کچھ چھین لئے جانے کے خوف سے لرزاں چہروں،کچھ کردکھانے کی تڑپ سے تمتماتی جبینوں اورنوجوانوں کی انمول دولت رکھنے والے دیس کےساتھ ہی دھڑکتاہے۔
اس کاجی چاہتاہے کہ اس کے دیس پاکستان میں جو کچھ ہو وہ سب سے پہلے جان لیاکرے۔اس شوق کی وجہ سے اکثرایسابھی ہوتاہے کہ وہ پاکستان میں موجودسماجی طورپرانتہائی فعال اپنی والدہ سے جب کسی ایونٹ کاذکرکرتی اورانہیں لاعلم پاتی ہے توتفصیل بھی اسے ہی مہیاکرناپڑتی ہے۔ایسے میں یقینااس کی امی کو کہناچاہئے کہ کچھ تویہاں والوں کے لئے بھی چھوڑ دولیکن وہ شایداس لئے ایسانہیں کہتی ہوں گی وہ اپنی گودمیں پلنے والی کی صلاحیت اورجذبے دونوں ہی سے باخبرہیں۔
پاکستان کے معروف ترین میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعدزندگی کے اہم ترین موڑشادی سےگزرکروہ بھی بہت ساری دیگرپاکستانیوں کی طرح ملک سے باہرچلی گئی۔بس وہ یہ نہیں کرسکی کہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں اورحالات کوبھول سکتی اس لئے اب بھی اس کادل یہیں اٹکاہوا۔
انتہائی سمجھدار،مخلص،محبت سے گندھی،پرشفقت اورخیرخواہ شخصیت رکھنے والی وہ دھان پان سی پاکستانی لڑکی وطن عزیزکے حالات کی بہتری اوربھول جانے والے سبق کویادکرنے کے لئے اتنی بے چین ہے جتنے شاید یہاں کے رہنے والے 18کروڑنفوس بھی نہ ہوں۔اس کاماننا ہے کہ ایساوہ اکیلی ہی نہیں کرتی بلکہ بہت سے پاکستانی باہررہ کربھی گھرکے لئے سوچتے،کڑھتے ،کچھ کرتے یاچپ رہتے ہیں۔
اس سے جب بھی بات ہوئی موضوع گفتگوپاکستان،پاکستانی اورپاکستانیت ہی رہا۔ وہ صرف محب وطن نہیں بلکہ اس سے کچھ بڑھ کرہے جبھی توایک لمحے تعلیم پرپریشاں نظرآنے والی دوسرے لمحے طبی سہولیات کا ذکرکرکے افسردہ ہوتی ہے،فورا ہی سماجی روئے موضوع بنتے ہیں تواگلے سانس میں سیاست کے جھیل جھمیلے گفتگوکارخ پلٹ ڈالتے ہیں،میڈیاکی کرنیاں ،ناکرنیاں پریشان کرتی ہیں توادھرادھربکھری کامیابیوں سے حوصلہ کشیدکرلیتی ہے۔ مجال ہے کہ کبھی کوئی بات اس کی ذات سے متعلق کی گئی ہو اوروہ کچھ دیراسے موضوع بنانے پرآمادہ رہی ہو۔بسااوقات یہ ہواکہ رسم دنیانبھانے کوخیرخیریت پوچھ لی تو2سے 3روزتک جواب ہی نہیں ملا۔
اس کے اندرپکنے والے لاوے کااندازہ توتھا،کچھ پہلوئوں پربہت سردوگرم بحث بھی ہوتی لیکن وہ ہمیشہ اتنی خوبصورتی سے مجھے قائل کرنے کی کوشش کرکے اپنے موقف پراڑی رہتی ہے گویاوہ خودکے درست ہونے کا یقین ہی نہیں مصمم یقین رکھتی ہے۔چند روزقبل برطانیہ میں رہائش پزیرپاکستانیوں اورپاکستان کے بارے میں ان کے احساسات پربات ہوئی تووہ پھٹ ہی پڑی۔
پاکستان ٹوٹ جائے گا؟امن کب ہوگا؟بنگلہ دیش جیسے حالات بن گئے کیابلوچستان الگ ہو رہاہے؟جیسے بھاری بھرکم سوالات لئے وہ اپنے لفظوں سمیت یوں میرے سامنے آکھڑی ہوئی گویاجواب لئے بغیرٹلنے کی نہیں لیکن پھرخودہی کہنے لگی یہاں آنے والے سبھی کام کرتے رہو،پیسے کمائوعیاشی کرو،ملک کی پرواہ نہیں کی دھن میں مگن ہیں۔
اس کاکہناتھابرطانیہ میں پاکستان جیسادائیں بائیں کامسئلہ نہیں بلکہ مذہب اورلادینیت کوپسندکرنے والوں کی کشمکش ہے جس میں امتیازصرف پیدائشی برطانوی ہی کو حاصل ہے۔باقیوں کے لئے قانون اس وقت تک ہے جب تک یہاں کے کرتادھرتائوں کواس سے کوئی مسئلہ نہ ہو۔البتہ اتنی اچھائی ضرورہے کہ طرزفکرکااختلا ف لڑائی کی صورت کم ہی اختیارکرتاہے اورفساد توبنتاہی نہیں ہے۔
مگردوردیس بسنے والی وہ پاکستانی لڑکی آخر ٹھہری سداکی پاکستانی، شاید اپنے لاشعورمیں موجودحالات کی بہتری کے احساس کو دبا نہ سکنے کی وجہ سے اس کی زبان پر آہی گیا کہ برطانوی میڈیاچین ہی چین اس لئے لکھتاہے کہ ان کے پاس کوئی خبرہی نہیں یہ زبردستی کر کے خبریں پیداکرتے ہیں۔پاکستانیوں کی اکثریت یہی سمجھتی ہے اوروہ ایسا سمجھنے میں کچھ غلط بھی نہیں ہے۔
پاکستان میں بسنے والوں سے اسے گلہ ہے اوربجا ہے کہ اپنی شناخت کی بقاء کی جنگ لڑنے والے پاکستانی نژادبرطانویوں کے برعکس پانچ دریائوں اوردوریگستانوں کی سرزمین پربسنے والے پاکستانی عیاشی کررہے ہیں یہاں رہنےوالوں کوعلم یاادراک نہیں کہ دنیاجوکچھ کررہی ہے اس میں ہمیں کیاکرناچاہئے۔
ارباب بست وکشاد سے بھی اسے گلہ ہے کہ ظلم ہو رہاہے،نفرت بوئی جا رہی ہے،تقسیم گہری کی جا رہی ہے،مشکلات ہیں کہ بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ایسے میں امریکہ،برطانیہ نا سہی مسلم ملکوں کے اسکالرز،علماء،دانشور،رہنما یہ کیوں نہیں سوچتے حل کی فکرکیوں نہیں کرتے؟عارضی اوروقتی سلوشن کوہی پسند کرتے ہیں؟
اس کایہ بھی ماننا ہے کہ پاکستان میں رہنے والوں کے درمیان مصنوعی طورپرپیداکئے جانے والے مختلف طبقات میں جو فرق ہے وہ برطانیہ میں نہیں لیکن یہاں کے رہنے والے کم ازکم ہرچئی چیزسے ویسے متاثریامرعوب بھی نہیں ہوتے جتنی جلد پاکستان میں رہنے والے پاکستانی ہو جاتے ہیں۔اسے یہ بھی دکھ ہے کہ وہ لوگ جو حالات بدلنے کاحوصلہ،سکت اورصلاحیتیں رکھتے ہیں وہ تھکن کاشکارہیں،خودمذمتی کی وجہ سے ڈیلیورکرنے کو تیارنہیں،نفساتی تسکین کے لئے گفتگوکوہی کافی سمجھتے ہیں،سوچے سمجھے بغیرکرنااورنتیجے کے لئے کوشش ہی نہ کرنا اپنا شیوہ بنا لیاہے،سوشل میڈیااورجدید ابلاغیات کے دورمیں گزشتہ نسل کانئی نسل سے کوئی رابطہ ہی نہیں رہاہے۔
دوردیس رہنے والی اس پاکستانی لڑکی میں ایک چیزایسی ہے جو میرے نزدیک اسے ہم جیسے بہت سوں سے ممتازکرتے ہے اوروہ ہے مسئلہ پرکڑھنے اورروتے رہنے کے بجائے تبدیلی کی امید،تڑپ،جذبہ،اپنی شناخت پراصراراوران سب کے لئے کام کرنے کا حوصلہ ۔جاتے جاتے وہ اوپربیان کئے گئے شکووں کا حل بھی تجویزکرگئی کہ اگر ہم خودسے محبت کرناسیکھ جائیں توذہنی پسماندگی دورہوجائے گی اورجس دن ایساہو گیااس دن پاکستان کوبہتری،بلندی،ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا،کوئی بھی نہیں۔

کراچی،پولیس اہلکارسمیت9 افراد گرفتار

کراچی: پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ کے دارالحکومت کراچی کے مختلف علاقوں میں شہریوں سے لوٹ مار،ڈکیتی،غیر قانونی اسلحہ اور منشیات رکھنے کے الزام میں ایک پولیس اہلکار سمیت 9 ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمات درج کرلئے گئے ہیں۔
نمائندہ دی نیوز ٹرائب  کے مطابق ایس ایس پی سینٹرل عاصم قائمخانی کے مطابق نارتھ ناظم آباد بلاک L میں شہریوں نے لوٹ مار کی واردتوں میں ملوث ملزم کو رنگے ہاتھوں پکڑ  کر تھانہ تیموریہ کی پولیس کے حوالے کردیا ہے۔
ڈی ایس پی الطاف حسین کے مطابق سرسید ٹاوٴن کے علاقے سے ایک ملزم کوگرفتار کرکے ،غیر قانونی پستول برآمد کرلی گئی جبکہ بلدیہ ٹاوٴن کے علاقے اتحاد ٹاوٴن سے ایک ملزم کوگرفتار کرکےمنشیات برآمد کی گئی ہے۔
ادھر موچکو کے علاقے سے ایک ملزم عارف کچھی کو گرفتار کرلیا گیا ہےگرفتار ملزم تھانہ محمود آبادکو متعدد مقدمات میں مطلوب تھا،جبکہ گرفتار ملزم تھانہ ٹیپو سلطان پولیس کو قتل کے مقدمے میں بھی نامزد اور مطلوب تھا۔
فیڈرل بی ایریا بلاک 11 سے اسٹریٹ کرائم کی واردات میں ملوث تین ملزمان کوگرفتار کرلیا گیا، ملزمان میں ایک پولیس اہلکار بھی ہے جو سندھ ریزرو پولیس بیس 2 میں تعینات ہے، پولیس نے ملزمان کے قبضے سے تین ٹی ٹی پستول، چھینے گئے 15 موبائل فون، اور مسروقہ موٹر سائیکل بھی برآمد کرلی ہے۔
ایس ایس پی ڈسڑکٹ ایسٹ جاوید اوڈھو کے مطابق عوامی کالونی تھانے کی پولیس نے اسٹریٹ کرائم کی واردات میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا جن کے قبضے سے 2 ٹی ٹی پستول، اورچھینے گئے 12 موبائل فونز کو برآمد کرلیا ہے۔

لاہور،فیکٹری میں آگ3مزدورجل گئے


لاہور: پاکستان کے مشرقی صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہورکے علاقے ٹاون شپ میں جوتے بنانے والی فیکٹری میں آگ لگنے کے باعث 3 مزدورجھلس گئے جنہیں اسپتال میں داخل کروادیا گیا ہے۔
 نمائندے کے مطابق  ان میں سے40 سالہ شمیم کی حالت انتہائی تشویش ناک بتائی جاتی ہے جس کی جان بچانے کی ڈاکٹرز کوشش کررہے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق ٹاوٴن شپ کے رہائشی علاقے میں ایک گھر میں بنی جوتے تیار کرنے والی فیکٹری میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی۔
 فائر بریگیڈ حکام نے آگ پر تو جلد قابو پا لیامگر اس دوران وہاں کام کرنے والے تین کاریگر شمیم،رضوان اور احمد علی جھلس گئے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان,63برس17گورنر


کراچی: معاشی لحاظ سے غیر مستحکم ملک پاکستان کے مرکزی بینک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گزشتہ 63 برسوں میں 16 گورنر بن چکے ہیں جب کہ بینک کی تاریخ کا 17 واں گورنر اپنے عہدے کی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
آزاد برطانوی نیوزویب سائٹ دی نیوز ٹرائب کے مطالعاتی جائزے کے مطابق پاکستان کے63سالہ مرکزی بینک  میں 1948 کے بعد بینک کے اعلیٰ ترین عہدے گورنر پر17 واں گورنر آئندہ 3 برس کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔
یادرہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا قیام بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں تقسیم ہندکے بعد مئی 1948 میں ہوا تھاجب کہ ملک کی مرکزی بینک نے یکم جولائی 1948 سے کرنسی چھاپنے سمیت تمام معاملات پر کام کا آغاز کیا  ،  جولائی 1948 سے تاحال بینک کے 16 گورنر اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں جب کہ یاسین انور 17 ویں گورنر کے طورپراپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
دی نیوز ٹرائب کو دستیاب رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کی تاریخ میں سب سے طویل وقت تک گورنررہنے  والے  اے جی این قاضی  ہیں جنہوں نے جولائی 1978 سے جولائی 1986 تک بینک گورنر کی حیثیت سے کام کیا  جب کہ مختصر ترین وقت تک عہدہ رکھنے والے گورنرز میں شاکراللہ درانی نے جولائی 1971 سے  دسمبر 1971 تک 5 ماہ 21 دن تک  اور  حال ہی میں عہدہ چھوڑنے والے شاہد حفیظ کاردار 10 ماہ تک  بینک کے گورنر رہے۔
 اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے پہلے گورنر زاہد حسین نے  1948 سے جولائی 1953 تک 5 برس عہدہ سنبھالا  جس کے بعد عبدالقادر کو 1960 تک بینک کا گورنر مقرر کیا گیا،  جولائی 1960 سے جولائی 1967 تک شجاعت علی حسنی جب کہ محبوب الرشید جولائی 1967 سے جولائی 1971 تک اسٹیٹ بینک کے گورنر رہے۔
  دستیاب رپورٹ کے مطابق غلام اسحاق خان دسمبر 1971 سے نومبر 1975 تک، ایس عثمان علی دسمبر 1975 سے جولائی 1978 تک،  اے جی اے قاضی جولائی 1978 سے جولائی 1986 تک جب کہ وے اے جعفری جولائی1986 سے اگست 1988 تک  اسٹیٹ بینک کے گورنر رہے ۔
آئی اے حنفی  بینک گورنر کے عہدے پر 2 بار خدمات سرانجام دے چکے ہیں  ان کی پہلی مدت 1988 سے 1989 جب کہ دوسری مدت 1990 سے جون 1993 تک رہی،  ڈاکٹر محمد یعقوب جولائی 1993 سے نومبر 1999 تک، ڈاکٹر عشرت حسین دسمبر 1999 سے دسمبر 2005 تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کےسربراہ رہے۔
اسٹیٹ بینک کی  تاریخ میں پہلی بار  جنوری 2006 سے جنوری 2009 تک خواتین  سربراہ  ڈاکٹر شمشاد اختر مقرر ہوئی جس کے بعد سید سلیم رضا جنوری 2009 سے جون 2010تک عہدے پر فائز رہے ، آخر میں شاہد حفیظ کاردار 10 ماہ تک بینک گورنر کے عہدے پر رہے جب کہ حال ہی میں یاسین انور کو 3 سال کے لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا 17 واں گورنر مقرر کیا گیا ہے۔

پاکستان کی سرکاری ا یئرلائن کا انجینئرنگ شعبہ تباہ کرنےکی سازش

کراچی: پاکستان کی سرکاری ا یئرلائن ( پی آئی اے) کی جانب سے دبئی بیس کمپنی ٹرانس ورلڈ ایوی ایشن سے ایئرکرافٹ پارٹس کے معاہدے بعد ڈائریکٹر اور جی ایم (پی این ایل) کو 3,3ماہ کی جبری رخصت پر بھیج دیا جبکہ انجینئرنگ کے شعبے کو تباہ کرنے کی سازش کی تکمیل کے لئے فنانس منیجر کو بھی کام سے روک دیا گیا ہے جن کے  جلد تبادلے کا امکان ہے ۔
نمائندہ دی نیوز ٹرائب کو ذرائع نے بتایا کہ غیر ملکی کمپنی سے یہ معاہدہ 40ملین سالانہ کا ہے جبکہ 5سال میں یہ اربوں روپے تک پہنچ جائے گا۔
 ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے جہاز گراونڈ ہونے کی وجوہات بھی سامنے آرہی ہیں دبئی بیس کمپنی کی جانب سے معاہدے کے بعد ایک مرتبہ بھی جہاز کی مرمت کا کام نہیں کیا گیا ۔
 ذرائع نے بتایا کہ دبئی بیس کمپنی ٹرانس ورلڈ ایوی ایشن سے ایئرکرافٹ پارٹس کے 5سالہ معاہدے کے بعد اب ڈائریکٹر پی این ایل خالد افتخار اور پی این ایل کے جی ایم حنیف رانا کو 3,3ماہ کی جبری رخصت پر بھیج دیا ہے جبکہ ان جبری رخصت پر بھیجنے کا مقصد اپنی نا اہلی کو چھپانا ہے نا کہ اگر کوئی دبئی بیس کمپنی سے معاہدے پر سوالات کرتا ہے تو اس کو یہ بتایا جائے کہ ڈائریکٹر پی این ایل اور پی این ایل کے جی ایم کو جبری رخصت پربھیجا جا چکا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ دوسری جانب 24ستمبر 2011کو پی آئی اے کی جانب سے غیر ملکی کمپنی سے ایئرکرافٹ پارٹس کے معاہدہ کے بعد معاہدے کی تکمیل کے لئے 6 اکتوبر کو جنرل منیجر عمر رزاق کی جانب سے فنانس منیجر کو دبئی بیس کمپنی ٹرانس ورلڈ ایوی ایشن کے نام 25لاکھ ڈالر کا لیٹر آف کریڈٹ جاری کرنے کی ہدایت کی گئی تھی جبکہ 7اکتوبر کو فنانس منیجر محمد شاہد اسلم کی جانب سے اعتراضات ظاہر کئے گئے اور 25لاکھ ڈالر کا لیٹر آف کریڈٹ جاری کرنے سے انکار کردیا۔
فنانس منیجر نے جواب میں کہا کہ دبئی بیس کمپنی سے معاہدہ ( ایس او پی) 1997کے تحت ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے جس کے مطابق دو سال سزا اور ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہوسکتا ہے اور یہ معاہدہ ساتھ ساتھ مقابلہ جاتی  ایکٹ کی خلاف ورزی بھی ہے جس کی وجہ سے 25لاکھ ڈالر کا لیٹر آف کریڈٹ جاری نہیں کیا جاسکتا۔ اور لیٹر آف کریڈٹ جاری کرنے کے لئے معاہدے کی کاپی بھی منسلک نہیں کی گئی جس کے بعد فنانس منیجر محمد شاہد اسلم کو لیٹر آف کریڈٹ جاری نہ کرنے اور اعتراضات کو ظاہر کرنے پر مزید کام سے روک دیا گیا۔
 دی نیوز ٹرائب ذرائع کے مطابق جلد تبادلے کاامکان بھی ہے واضح رہے کہ 24ستمبر کو دبئی بیس کمپنی سے معاہدے کے بعد پی آئی اے کے انجینئرنگ شعبے کے 4ہزار سے زائد ملازمین کی ملازمتیں بھی خطرے میں پڑ چکی ہیں جبکہ پی آئی اے کا انجینئرنگ شعبہ سعودی ایئرلائن، ایران ایئرلائن سمیت دیگر 28ایئرلائن کی مرمت کا کام کرتا تھا اور اپنے کام میں انتہاءمہارت کا حامل تھا۔
 ذرائع کے مطابق پی آئی اے کا انجینئرنگ شعبہ گزشتہ 6ماہ میں کروڑوں آمدنی بھی دے چکا ہے لیکن معلوم نہیں کہ کیا وجوہات ہیں کہ جس کی بناءپر اس انتہائی مہارت کے حامل شعبہ کو تباہ کیا جا رہا ہے اور دبئی بیس کمپنی جس سے معاہدہ کیا گیا ہے وہ معیار پر بھی پورا نہیں اترتی۔
ذرائع نے بتایا کہ پی آئی اے کا یہ شعبہ 700رجسٹرڈ کمپنیوں سے ایئرکرافٹ پارٹس کا سامان خریدتا تھا اور وہ پی آئی اے کو 50سے 55فیصد تک رعایت دیتے تھے جبکہ ٹرانس ورلڈ ایوی ایشن کمپنی سے معاہدے کے بعد اب 10سے 15فیصد تک ڈسکاونٹ حاصل ہوگا۔
معاہدے کو 15روز گزرجانے کے باوجود پی آئی اے کے طیارے خرابیوں کے باعث گراونڈ ہو رہے ہیں لیکن کمپنی کی جانب سے ایک مرتبہ بھی کام نہیں کیا گیا جس سے ادارے کو روزانہ کی بنیاد پر نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔


افغان جنگ کاخاتمہ نئی امریکی حکمت عملی

واشنگٹن : امریکہ نے افغانستان سے متعلق نظرثانی شدہ حکمت عملی کو متعارف کرادیا ہے جس سے حکام کو توقع ہے کہ عسکریت پسندوں سے مذاکرات اور سیاسی انداز میں جنگ کے خاتمے کے لئے خطے کی حمایت حاصل کی جاسکے گی۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس حکمت عملی کے ذریعے انتظامیہ کی کوشش ہوگی کہ امریکی انخلاءکے بعد افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے دوبارہ قیام کے لئے خانی جنگی شروع نہ ہوسکے۔
اخبار کے مطابق اس حکمت عملی پر کام شروع ہوچکا ہے اور مشرقی افغانستان میں حقانی نیٹ ورک پر فوجی دباﺅ بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس گروپ اور دیگر طالبان گروپس کے لئے امریکہ سے براہ راست مذاکرات کا دروازہ بھی کھول دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں پاکستان کو مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کرنے کی پیشکش کی جاچکی ہے تاکہ عسکریت پسندون کو مذاکرات کی میز لایا جاسکے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ اوبامہ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ مذاکرات افغان حکومت اور عسکریت پسندوں کے درمیان امریکی معاونت اور پاکستانی حمایت سے ہونے چاہئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں فریقین کی براہ راست شمولیت اس میں ہو۔
ایک سیئر عہدیدار کے مطابق ابتدائی بات چیت کے مثالی نتائج باہمی اعتماد سازی کے اقدامات سے سامنے آئیں گے، جن میں مقامی سطح پر جنگ بندی کرنا بھی شامل ہوگا، اس طرح افغانستان کے مستقبل کے بارے میں بات چیت ہوسکے گی۔
اس حکمت عملی کے تحت افغانستان کے پڑوسی ممالک پر شورش زدہ ملک میں سیاسی انقلاب اور مستحکم اقتصادی ترقی میں مدد کے لئے زور ڈالا جائے گا۔
امریکی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ اس حکمت عملی کی کامیابی کا انحصار کئی معاملات کے مثبت نتائج پر ہے، جو ابھی لگتا ہے کہ غلط سمت کی جانب جا رہے ہیں، جس کی مثال کابل اور قندھار کے حالیہ حملے اور پینٹاگون کی جانب سے ان کا الزام حقانی نیٹ ورک پر لگانا ہے۔