لاہور : پاکستان میں بجلی، پیٹرول، قدرتی گیس، آٹے اور چینی کی قلت کے بعد اس بار لوگوں کو شراب کی قلت کا سامنا ہے۔
اس کی وجہ پاکستان میں شراب بنانے والے سب سے بڑے کارخانے مری بروری کی جانب سے شراب کی تیاری محدود کرنا بتائی گئی ہے۔
مری بروری کے ایک اہلکار نے بتایا کہ وہ پنجاب سے گزشتہ 30 برس سے خام الکوہل خرید رہے تھے جس پر پنجاب حکومت نے بغیر کسی وجہ کے ڈیوٹی لگا دی ہے جس سے تیاری کی لاگت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
اہلکار کے مطابق پنجاب حکومت نے 75 روپے فی گیلن ڈیوٹی نافذ کی ہے، ’اگر ہم یہ ڈیوٹی دیتے ہیں تو مارکیٹ میں مقابلے والی پوزیشن میں نہیں رہتے، اس لیے ڈیوٹی ادا نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے پورے ملک میں قلت ہے۔
مری بروری کے مطابق خام الکوہل کی 20 فیصد پیداوار ان کی اپنی ہے جب کہ 80 فیصد وہ دوسری ڈسٹلریز سے خریدتے ہیں۔
مری بروری کے اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ حل ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہا اس حوالے سے عدالت سے رجوع کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
پاکستان میں شراب کے 3کارخانے ہیں جو مری بروری، کوئٹہ ڈسٹلری اور انڈس ڈسٹلری کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
برطانوی دور حکومت سے قائم کارخانے مری بروری میں آج بھی بیئر، ووڈکا، وائن، جِن، رم اور نان الکوہل بیئر تیار کی جاتی ہے۔
مری بروری کا کہنا ہے کہ ان کی مصنوعات 70 فیصد سندھ میں فروخت ہوتی ہیں جس کی وجہ وہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں غیر مسلموں کی آبادی زیادہ ہونے اور نرم پالیسی کو قرار دیتے ہیں۔
پاکستان میں موسم سرما کے علاوہ ہندو اور کرسچن کمیونٹی کے تہواروں کے موقعے پر شراب کی فروخت میں دوگنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
کراچی کے علاقے چنیسر گوٹھ میں گزشتہ روز کچی شراب پینے سے 7 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
سندھ کے صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مکیش کمار نے اس واقعے کی وجہ شراب کی موجودہ قلت کو قرار دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ان واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
مکیش کمار کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت اور مری بروری میں 3ماہ سے ٹیکس کا تنازعہ جاری ہے۔
’سندھ میں 80فیصد کھپت مری بروری کی ہے، ہر ماہ 80ٹرک آتے تھے جب کہ اس وقت صرف 8 ٹرک آ رہے ہیں۔‘
ماضی میں سندھ اور پنجاب میں پانی کی تقسیم اور وسائل کی تقسیم پر اختلافات رہے ہیں مگر اس بار سندھ حکومت نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کو شراب کی قلت پر باضابطہ خط تحریر کیا ہے اور اس سلسلے میں اقدامات کی گزارش کی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی مری بروری نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا تھا جس کی وجہ خام مال کی قیمتوں میں اضافہ بتایا گیا تھا۔
پاکستان کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 2011-12ء کی تجارتی پالیسی میں پاکستان میں تیار ہونے والی شراب بیرون ملک فروخت کرنے کی بھی تجویز دی ہے اور کہا کہ اس سے کثیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال سے وفاقی حکومت کی یہ کوشش بھی متاثر ہوگی۔
0 comments:
Post a Comment