
ملاقات کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکی حکام پر واضح کیا کہ کُل جماعتی کانفرنس میں اس بات کا عزم ظاہر کیاگیا ہے کہ افغانستان میں امن کا قیام خطے کے استحکام کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں پاس ہونے والی قرارداد پوری قوم کی ترجمانی کرتی ہے۔
کل جماعتی کانفرنس میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور شدت پسندگروہ حقانی نیٹ ورک کے درمیان رابطوں کے بارے میں امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ایسے الزامات شراکت داری کی فکر کی تذلیل ہیں‘۔
امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے خطے میں امن اور سلامتی کے لیے پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کیا اُنہوں نے کلِککُل جماعتی کانفرنس کی قراردادکو سراہا اور کہا کہ یہ پاکستان کی طرف سے پوری دنیا کے لیے مثبت پیغام ہے
اس سے پہلے ہیلری کلنٹن نے افعانستان میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئےکہا تھا کہ وہ پاکستانی حکام پر زور دیں گی کہ وہ پاک افغان سرحد پر موجود حقانی نیٹ ورک کے حلاف موثر کارروائی کرے۔
پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ کے دو اہم ملکوں کے درمیان کسی معاملے پر اتفاق نہ ہونے سے دونوں ملکوں کے درمیان سٹریجیک تعلقات اثرانداز نہیں ہونے چاہیے جو دونوں ملکوں کے درمیان انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
بیان کے مطابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو شدت پسندی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
ملاقات میں امریکی سی آئی اے کے سربراہ جنرل پیٹریاس کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی مارکس گراس مین بھی موجود تھے جبکہ پاکستان کی طرف سے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا بھی ملاقات میں موجود تھے۔
میڈیا پر دیکھائی جانے والی فوٹیج میں دونوں اطراف سے تناو واضح نظر آ رہا تھا۔ ہیلری کلنٹن کا پاکستان کا دورہ پہلے سے طے شدہ نہیں تھا جب وہ پاکستان آئیں تو کسی وزیر نے اُن کا استقبال نہیں کیا بلکہ دفتر خارجہ کے ایک پروٹوکول افسر چکلالہ ائربیس پر موجود تھے۔ حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سنیٹر صغری امام نے حکومت کی نمائندگی کی۔
جمعہ کے روز امریکی وزیر خارجہ صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے علاوہ اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر سے بھی مزاکرات کریں گی۔ اس کے علاوہ وہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کے علاوہ سول سوسائٹی کے ارکان سے بھی ملاقاتیں کریں گی ۔
0 comments:
Post a Comment